"ملتزم: وہ مقام جہاں دل رب کے در سے لپٹ کر روتا ہے

Multazim 


"ملتزم: وہ مقام جہاں دل رب کے در سے لپٹ کر روتا ہے

 "ملتزم: وہ مقام جہاں دل رب کے در سے لپٹ کر روتا ہے"

جب خانہ کعبہ کے سائے میں، حجرِ اسود اور درِ کعبہ کے درمیان نگاہ پڑتی ہے تو دل خودبخود نرم پڑ جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جسے ملتزم کہا جاتا ہے۔ ملتزم، یعنی "چمٹنے کی جگہ"—جہاں روح اپنے خالق کے در پر لپٹ کر فریاد کرتی ہے۔

یہ صرف پتھر کی ایک دیوار نہیں، بلکہ وہ مقام ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بارہا تشریف لائے، اس سے لپٹے، اور روتے رہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ملتزم سے چمٹے، اپنا چہرہ اور سینہ اس سے لگائے رو رہے تھے اور دعا مانگ رہے تھے۔" (بیہقی، شعب الایمان)


یہی سنت بعد میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے بھی اپنائی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہ ملتزم پر آ کر دعاؤں میں اس قدر گم ہو جاتے کہ آس پاس کا ہوش بھی نہ رہتا۔ وہ ملتزم سے اس طرح چمٹتے کہ گویا رب کے قدموں میں گر پڑے ہوں۔


ملتزم پر دعا کیسے کی جائے؟

جب کوئی بندہ ملتزم کے سامنے آتا ہے تو اُسے چاہئے کہ وہ پورے ادب، محبت اور عاجزی کے ساتھ اس دیوار سے لپٹ جائے۔ اپنا سینہ، چہرہ، بازو اور رخسار اس سے لگا دے۔ زبان بند ہو، آنکھیں اشکبار ہوں، دل لرز رہا ہو، اور زبانِ حال سے صرف اتنا کہے: "یا اللہ! تُو ہی میرا رب ہے، تیرا در ہی میری امید ہے۔"


یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں دعائیں جملے نہیں رہتیں، وہ چیخیں بن جاتی ہیں۔ آنکھوں سے بہنے والا ہر قطرہ، معافی کی صدا بن جاتا ہے۔ اور رب کا وعدہ ہے کہ "میں ہر پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔"

ملتزم کا مقام، تاریخ کا آئینہ ہے

کبھی سوچئے، جس مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کی بخشش مانگی، کیا وہ مقام بےقیمت ہو سکتا ہے؟ جہاں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آ کر رب سے التجائیں کیں، جہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آنکھیں بند کر کے دل کے زخم رکھے، کیا وہ جگہ عام ہو سکتی ہے؟


یہ وہ جگہ ہے جہاں غلاموں نے آزادی مانگی، بیماروں نے شفا مانگی، گناہگاروں نے مغفرت مانگی… اور سب کو ان کا رب مایوس نہ لوٹایا۔


اے دل!

اگر کبھی ملتزم تک رسائی ہو، تو دنیا کی تمام دعائیں چھوڑ کر صرف رب کو مانگ لینا۔ اس سے لپٹ جانا ایسے جیسے کوئی بچہ رات کو ڈر کر ماں سے لپٹ جاتا ہے۔ اور بس، رونا ہے… کہ یہاں رو لینا، باقی زندگی کو آسان کر دیتا ہے۔


اختتامی دعا (ملتزم پر مانگی جانے والی فریاد):

یا اللہ…!

میں تیرا بندہ ہوں، تیرا گناہگار، تیرا نادم، تیرے در کا فقیر…

میں نہ عبادت میں کامل، نہ اطاعت میں صابر،

میں وہ ہوں جو تیری نعمتوں کا شکر نہ ادا کر سکا،

مگر تو وہ ہے جو احسان پر احسان کرتا چلا جاتا ہے۔

یا اللہ…!

اگر تُو مجھے آج معاف نہ کرے، تو میں کہاں جاؤں؟

کس کے در پر جا کر اپنی پیشانی رکھوں؟

کس سے کہوں کہ میں تھک چکا ہوں، ٹوٹ چکا ہوں،

اور صرف تیرے کرم کا محتاج ہوں؟


یا رب…!

میری خطائیں بہت ہیں، مگر تیری رحمت ان سب سے زیادہ ہے،

میرے دل پر گرد ہے، مگر تیرے نور سے سب کچھ روشن ہو سکتا ہے،

میری جھولی خالی ہے، مگر تیرا خزانہ کبھی خالی نہیں ہوتا۔

یا اللہ…!

جیسے تُو نے یوسف کو قید سے نکالا،

ایوب کو دکھوں سے نجات دی،

یونس کو مچھلی کے پیٹ سے رہائی دی…

ویسے ہی مجھے بھی میرے دکھوں، میرے گناہوں، اور میرے نفس کے اندھیروں سے نکال دے۔

یا اللہ…!

ملتزم کے قدموں میں چمٹ کر مانگ رہا ہوں،

میری آنکھوں کے یہ آنسو گواہ ہیں،

میری لرزتی زبان گواہ ہے،

کہ میں صرف تجھ سے مانگ رہا ہوں،

صرف تجھ سے… یا اللہ، صرف تجھ سے!

یا رب!

میری دعا کو رد نہ کر،

میری سسکیوں کو اپنے عرش تک پہنچا دے،

اور میری ٹوٹی ہوئی امیدوں کو اپنی رحمت سے جوڑ دے۔

آمین یا رب العالمین


Comments

Popular posts from this blog

ایمان تازہ کرنے والی باتیں